صحائف
عقائد اور عہُود ۶۳


فصل ۶۳

۳۰ اگست ۱۸۳۱ کو کرٹ لینڈ، اوہائیو میں، نبی جوزف سمِتھ کے ذریعے سے دیا گیا، مُکاشفہ۔ نبی، سِڈنی رِگڈن، اور اولیور کاؤڈری میزوری سے دَورے کے بعد ۲۷ اگست کو کرٹ لینڈ میں پہنچے۔ جوزف سمِتھ کی تارِیخ اِس مُکاشفے کی وضاحت کرتی ہے: ”کلِیسیا کے اِن اِبتدائی دِنوں میں ہر اُس مُعاملے پر خُداوند کا کلام پانے کی فکر تھی جو کسی بھی طور پر ہماری نجات سے مُتعلّق تھا؛ اور چُوں کہ صِیُّون کی سرزمِین اب سب سے زیادہ اَہم دُنیاوی چِیز زیرِ غَور تھی، مَیں نے خُداوند سے مُقَدَّسین کے اِکٹھے ہونے کے حوالے سے مزید جاننے، زمِین خریدنے اور دُوسرے مُعاملات کی بابت اِستفسار کِیا۔“

۱–۶، قہر کا دِن بدکاروں پر آئے گا؛ ۷–۱۲، نِشانیاں اِیمان سے آتی ہیں؛ ۱۳–۱۹، دِل میں زِنا کرنے والے اِیمان کا اِنکار کریں گے اور آگ کی جھیل میں ڈالے جائیں گے؛ ۲۰، اِیمان دار مُتَبَدل زمِین پر مِیراث پائیں گے؛ ۲۱، تبدیلیِ صورت کی پہاڑی کے واقعات کا مکمل بیان اب تک آشکارا نہیں کِیا گیا ہے؛ ۲۲–۲۳، فرماں بردار بادِشاہی کے راز پاتے ہیں؛ ۲۴–۳۱، صِیُّون میں وِراثتیں خریدنا ہیں؛ ۳۲–۳۵، خُداوند جنگوں کا فرمان دیتا ہے، اور بدکار بدکاروں کو قتل کرتے ہیں؛ ۳۶–۴۸، مُقَدَّسین کو صِیُّون میں جمع ہونا ہے اور اِس کی تعمیر کے لیے رُقُوم مہیا کرنا ہیں؛ ۴۹–۵۴، آمدِ ثانی، جی اُٹھنے، اور فضل کی ہزار سالہ بادِشاہی میں اِیمان داروں کے لیے برکات ِ موعودہ ہیں؛ ۵۵–۵۸، یہ تنبیہ کا دِن ہے؛ ۵۹–۶۶، وہ خُداوند کا نام بےفائدہ لیتے ہیں جو اُسے اِختیار کے بغیر اِستعمال کرتے ہیں۔

۱ سُنو، اَے لوگو، اور اپنے دِلوں کو کھولو اور دُور دراز کے لوگو، کان لگاؤ؛ اور سُنو، تُم جو خُود کو خُداوند کے لوگ کہتے ہو، اور اپنے بارے میں خُداوند کا کلام اور اُس کی مرضی کو سُنتے ہو۔

۲ ہاں، مَیں سچّ کہتا ہُوں، اُس کا کلام سُنو جِس کا قہر بدکاروں اور سرکشوں کے خِلاف بھڑکا ہے؛

۳ وہ جِنھیں اُٹھانا چاہتا ہے اُٹھا لیتا ہے، اور جِنھیں جیون بخشنا چاہتا ہے بخش دیتا ہے؛

۴ وہ اپنی خُوشی اور خُوش نُودی سے قائم کرتا ہے؛ اور جب چاہتا ہے برباد کرتا ہے، اور اُسے اِختیار ہے کہ جان کو جہنم میں ڈالے۔

۵ دیکھو، مَیں، خُداوند، اپنی آواز بُلند کرتا ہُوں، اور اِس کی فرمان برداری کی جائے گی۔

۶ پَس، مَیں سچّ کہتا ہُوں، بدکار کان لگائیں، اور سر کش ڈریں اور تھرتھرائیں، اور بےاِعتقاد اپنے ہونٹ سی لیں، کیوں کہ خُداوند کے قہر کا دِن اُن پر گردباد کی طرح آئے گا، اور ہر بشر جانے گا کہ مَیں خُدا ہُوں۔

۷ اور جو نِشان ڈُھونڈتا ہے وہ نِشان دیکھے گا، مگر نجات نہ پائے گا۔

۸ مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، تُمھارے درمیان میں وہ ہیں جو نِشان ڈُھونڈتے ہیں، اور اَیسے شُروع ہی سے رہے ہیں؛

۹ بلکہ، دیکھو، اِیمان نِشانوں سے نہیں آتا، بلکہ اِیمان لانے والوں کے درمیان میں نِشانیاں رُونما ہوتی ہیں۔

۱۰ ہاں، نِشانیاں اِیمان سے مِلتی ہیں، اِنسان کی مرضی سے نہیں، نہ ہی اُن کے چاہنے سے، بلکہ خُدا کی رضا سے۔

۱۱ ہاں، نِشانیاں اِیمان سے مِلتی ہیں، مُعجِزوں کی خاطر، کیوں کہ اِیمان کے بغیر کوئی شخص خُدا کی خُوشنودی نہیں پا سکتا؛ اور وہ جِن سے خُدا ناراض ہے اُن سے خُوش نہیں؛ پَس، اَیسوں پر وہ کوئی نِشان ظاہر نہیں کرتا، صرف قہر میں اُن کے لیے سزا ہے۔

۱۲ پَس، مَیں، خُداوند، اُن سے خُوش نہیں جو تُمھارے درمیان میں کرامات اور نِشانیاں پانے کی خاطر اِیمان لائے ہیں، اور میرے جلال کی خاطر آدمیوں کی بھلائی کے لیے نہیں۔

۱۳ پھِر بھی، مَیں حُکم دیتا ہُوں، اور بُہتیرے میرے حُکموں سے پھِر گئے ہیں اور اُن پر عمل نہیں کِیا ہے۔

۱۴ تُمھارے درمیان میں زِناکار مرد اور عَورتیں ہیں؛ جِن میں سے بعض تُمھیں چھوڑ چُکے ہیں، اور دُوسرے تُمھارے ساتھ باقی ہیں جو بعد میں ظاہر کیے جائیں گے۔

۱۵ اَیسے، خبردار ہوں اور جلد توبہ کریں، اَیسا نہ ہو کہ عدالت تُم پر پھندے کی طرح آ پڑے، اور اُن کی نادانی آشکارا کی جائے گی اور لوگوں کی آنکھوں میں اُن کے اَعمال اُن کا پیچھا کریں گے۔

۱۶ اور مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، جَیسا مَیں نے پہلے کہا ہے، وہ جو بُری خواہش سے کسی عَورت پر نِگاہ کرتا ہے، یا اگر کوئی اپنے دِل میں زِنا کرے، وہ رُوح نہ پائے گا، بلکہ اِیمان کا اِنکار کرے گا اور خَوف زدہ ہو گا۔

۱۷ پَس، مَیں، خُداوند کہہ چُکا ہُوں کہ بُزدِل اور بےاِیمان، اور سب جُھوٹے، اور ہر کوئی جُھوٹی بات کو پسند کرنے اور گھڑنے والا، اور حرام کار اور جادُوگر، اپنا حِصّہ اُس جھیل میں پائیں گے جو آگ اور گندھک سے جلتی ہے، جو دُوسری موت ہے۔

۱۸ مَیں سچّ کہتا ہُوں، کہ وہ پہلی قیامت میں حِصّہ نہ پائیں گے۔

۱۹ اور اب دیکھو، مَیں، خُداوند، تُم سے کہتا ہُوں کہ تُم بےقُصُور نہیں یہ باتیں تُمھارے درمیان میں موجود ہیں۔

۲۰ تاہم، وہ جو اِیمان میں برداشت کرتا اور میری مرضی پُوری کرتا ہے، وہی غالِب آئے گا، اور مُتَبَدل کے دِن زمِین پر مِیراث پائے گا۔

۲۱ جب زمِین کی صُورت تبدیل کی جائے گی، اُسی نمونے کے مُطابق جو میرے شاگِردوں کو پہاڑی پر دِکھایا گیا؛ جِس نوِشتے کی مَعمُوری تُم نے ابھی نہیں پائی۔

۲۲ اور اب، مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، کہ جَیسا مَیں نے تُم سے کہا تھا کہ مَیں اپنی مرضی تُم پر ظاہر کرُوں گا، دیکھو مَیں اِسے تُم پر ظاہر کرُوں گا، حُکم کی صُورت میں نہیں، کیوں کہ بُہت ہیں جو میرے حُکموں کو ماننے کی پروا نہیں کرتے۔

۲۳ لیکن جو میرے حُکموں کو مانتا ہے مَیں اُسے اپنی بادِشاہت کے بھید عطا کرُوں گا، اور وہ اُس کے اندر آبِ حیات کا چشمہ بن جائے گا، ہمیشہ کی زِندگی کے لیے جاری رہے گا۔

۲۴ اور اب، دیکھو، اپنے مُقَدَّسین کے بارے میں مُجھ خُداوند تُمھارے خُدا کی یہ مرضی ہے، کہ وہ خُود کو صِیُّون کی سرزمِین میں اِکٹھا کریں، عجلت میں نہیں، اَیسا نہ ہو کہ اَبتری پھیلے، جو وَبا لاتی ہے۔

۲۵ دیکھو، صِیُّون کی سرزمین—مَیں، خُداوند، اپنے ہاتھوں میں رکھتا ہُوں؛

۲۶ تو بھی، مَیں، خُداوند، وہ چِیزیں قیصر کو دیتا ہُوں جو قیصر کی ہیں۔

۲۷ پَس، مَیں خُداوند چاہتا ہُوں کہ تُم اراضی خریدو، تاکہ دُنیاوی لحاظ سے تُمھیں فوقیت حاصل ہو، تاکہ تُمھیں دُنیا پر حق ہو، تاکہ وہ غُصّے میں مُشتعل نہ ہوں۔

۲۸ کیوں کہ شیطان اُن کے دِلوں میں یہ ڈالتا ہے کہ وہ تُمھارے خِلاف مُشتعِل ہوں، اور خُون بہائیں۔

۲۹ پَس، صِیُّون کی سرزمِین رقم یا خُون کے سِوا حاصل نہ کی جائے گی، ورنہ تُمھارے لیے کوئی مِیراث نہیں ہے۔

۳۰ اور اگر خریداری کے ذریعے سے، دیکھو تُم مُبارک ہو؛

۳۱ اور اگر خُون سے، جَیسے کہ تُمھیں خُون بہانے سے منع کِیا گیا ہے، نظر کرو، تُمھارے دُشمن تُم پر چڑھ آئیں گے، اور تُم شہر بہ شہر، اور ایک عِبادت خانہ سے دُوسرے عِبادت خانہ تک سِتائے جاؤ گے، اور صرف کُچھ ہی مِیراث پانے کو بچیں گے۔

۳۲ مَیں، خُداوند، بدکاروں سے ناخُوش ہُوں؛ مَیں نے اپنی رُوح زمِین کے باشِندوں سے روک رکھی ہے۔

۳۳ مَیں نے اپنے غضب میں قسم کھائی ہے، اور رُویِ زمِین پر جنگوں کا فرمان جاری کِیا ہے، اور بدکار بدکاروں کو قتل کریں گے، اور ہر آدمی پر خَوف چھا جائے گا؛

۳۴ اور مُقَدَّسین بھی بال بال بچیں گے، تاہم، مَیں، خُداوند، اُن کے ساتھ ہُوں، اور اپنے باپ کی حُضُوری سے آسمان میں نیچے آؤں گا اور بدکاروں کو نہ بُجھنے والی آگ سے بھسم کرُوں گا۔

۳۵ اور دیکھو، یہ ابھی نہیں، لیکن جلد ہو گا۔

۳۶ پَس، اِس کے مدِنظر مجھ، خُداوند نے، رُویِ زمِین پر اِن تمام چِیزوں کا فرمان جاری کِیا ہے، میری مرضی یہ ہے کہ میرے مُقَدَّسین صِیُّون کی سرزمِین پر اِکھٹے ہوں؛

۳۷ اور کہ ہر آدمی راست بازی کو اپنے ہاتھوں میں لے اور اِیمان داری اپنی کمر پر باندھے، اور زمِین کے باشِندوں تک تنبیہ کی آواز بُلند کرے؛ اور کلام اور سفر ہر چند سے اِعلان کرے کہ بدکاروں پر تباہی آئے گی۔

۳۸ پَس، کرٹ لینڈ میں میرے شاگِرد، جو اِس جاگیر پر رہتے ہیں، اپنے دُنیاوی مُعاملات کو نمٹائیں۔

۳۹ اور میرا خادِم ٹائی ٹس بلنگز، جو زمِین کا ذِمّہ دار ہے، اِس کو بیچے تاکہ آنے والی بہار میں صِیُّون کی سرزمِین کے لیے، اُن کے ساتھ اپنا سفر کرنے کے لیے تیار ہو جو وہاں پر رہتے ہیں، سِوا اُن کے جِنھیں مَیں نے اپنے لیے چُنا ہے، کہ وہ میرے حُکم دینے تک نہ جائیں گے۔

۴۰ اور صِیُّون کی سرزمِین کے لیے تمام رُقُوم جو بچائی جا سکتی ہیں، کم یا زیادہ یہ میرے لیے اَہم نہیں، اُن تک بھیجی جائیں جِنھیں مَیں نے موصُول کرنے کے لیے مُقرّر کِیا ہے۔

۴۱ دیکھو، مَیں، خُداوند، اپنے خادِم جوزف سمِتھ جُونیئر کو یہ اِختیار دُوں گا کہ وہ رُوح کے ذریعے سے اُنھیں جاننے کے قابل ہو جو صِیُّون کی سرزمِین کی طرف روانہ ہوں گے، اور میرے وہ شاگِرد جو رُکیں گے۔

۴۲ میرا خادِم نیول کے وِٹنی اپنا ذخیرہ خانہ، یا دُوسرے اَلفاظ میں، ذخیرہ خانہ، اپنے پاس کُچھ دیر اور رکھے۔

۴۳ تاہم، وہ ساری رقم جو وہ دے سکتا ہے، صِیُّون کی سرزمِین کو بھیجنے کے لیے دے۔

۴۴ دیکھو، یہ اُمور اُس کے اپنے ہاتھ میں ہیں، وہ حِکمت کے مُطابق کرے۔

۴۵ مَیں سچّ کہتا ہُوں، اُسے اُن شاگِردوں کے لیے نمایندے کے طور پر مُقرّر کِیا جائے جو رُکیں گے؛ اور اُسے اِس اِختیار کے لیے مُقرّر کِیا جائے؛

۴۶ اور اب فوراً میرے خادِم اولیور کاؤڈری کے ساتھ، کلِیسیاؤں سے ملاقات کو جاؤ، اُن سے یہ باتیں بیان کرو، دیکھو، میری ہدایت کے مُطابق رُقُوم اِکٹھی کرو، یہی میری مرضی ہے۔

۴۷ وہ جو اِیمان دار ہے اور برداشت کرتا ہے دُنیا پر غالِب آئے گا۔

۴۸ وہ جو صِیُّون کی سرزمِین تک خزانے بھیجتا ہے اِس دُنیا میں مِیراث پائے گا، اور اُس کے اَعمال اُس کے ساتھ ہوں گے، اور آنے والی دُنیا میں اَجر بھی۔

۴۹ ہاں، اب سے مُبارک ہیں وہ مُردے جو خُداوند میں مرتے ہیں، جب خُداوند آئے گا، اور پُرانی چِیزیں گُزر جائیں گی، اور تمام چِیزیں نئی ہوں گی، وہ مُردوں میں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے اور پھِر نہ مریں گے، اور خُداوند کے حُضُور، مُقَدَّس شہر میں، مِیراث پائیں گے۔

۵۰ اور مُبارک ہے وہ، جِس نے اپنے اِیمان کو محفُوظ رکھا ہے، اور جِیتا ہے جِس وقت خُداوند آئے؛ تاہم، اِنسان کا اپنی عُمر کو پُہنچ کر وفات پانا طے کر دیا گیا ہے۔

۵۱ پَس، بچّے بڑھیں گے جب تک وہ بُوڑھے نہ ہو جائیں؛ اور بُوڑھے آدمی وفات پائیں گے؛ لیکن وہ خاک میں نہ سوئیں گے، بلکہ وہ پلک جھپکتے ہی تبدیل کیے جائیں گے۔

۵۲ پَس، اِسی سبب سے رسُولوں نے قیامتِ رفتگان کی مُنادی دُنیا کو دی ہے۔

۵۳ یہ وہ باتیں ہیں جِن کی تُمھیں ضرور راہ دیکھنی ہے؛ اور، خُداوند کے فرمان کے مُطابق، وہ اب نزدیک ہیں، اور رُونما ہوں گی، یعنی اِبنِ آدم کے یومِ آمد پر۔

۵۴ اور اُس گھڑی تک بےوقوف کنواریاں عقل مندوں کے درمیان میں ہوں گی؛ اور اُس گھڑی راست بازوں اور بدکاروں میں مکمل علیحدگی آتی ہے؛ اور اُس دِن مَیں اپنے فرِشتے بدکاروں کو الگ کرنے اور نہ بجھنے والی آگ میں پھینکنے کے لیے بھیجُوں گا۔

۵۵ اور اب دیکھ، مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، مَیں خُداوند، اپنے خادِم سِڈنی رِگڈن سے خُوش نہیں، اُس کے دِل میں گھمنڈ سمایا، اور اُس نے مشورت کو قَبُول نہ کِیا، بلکہ رُوح کو رنجیدہ کِیا؛

۵۶ پَس اُس کا مضمُون خُداوند کو قَبُول نہیں، اور وہ ایک اور تیار کرے گا اور اگر خُداوند اُسے قَبُول نہ کرے، دیکھو وہ اُس عہدے پر قائم نہ رہے گا جِس پر مَیں نے اُسے قائم کِیا ہے۔

۵۷ اور پھِر، مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، وہ جو حلیمی سے اپنے دِلوں میں، گُناہ گاروں کو توبہ کی تنبیہ کرنے کی آرزُو رکھتے ہیں، وہ اِس اِختیار کے لیے مُقرّر کیے جائیں۔

۵۸ چُوں کہ یہ تنبیہ کا دِن ہے، اور بُہت باتوں کا نہیں۔ چُناں چہ مَیں، خُداوند آخِری دِنوں میں ٹھٹھوں میں اُڑایا نہ جاؤں گا۔

۵۹ دیکھو، مَیں بالا سے ہُوں، اور میری قُدرت نیچے ہے۔ مَیں سب پر، اور سب میں، اور سب کے درمیان میں، اور سب چِیزوں کی تحقیق کرتا ہُوں، اور وہ دِن آتا ہے کہ تمام چِیزیں میری تابع ہوں گی۔

۶۰ دیکھو، مَیں الفا اور اومیگا، یعنی یِسُوع مسِیح ہُوں۔

۶۱ پَس، تمام لوگ خبردار ہوں کہ کیسے میرا نام اپنے ہونٹوں پر لیتے ہیں—

۶۲ پَس دیکھو، مَیں سچّ کہتا ہُوں، کہ بُہت سے اِس وجہ سے مُجرم ٹھہرائے گئے، جو بغیر اِختیار کے، خُداوند کا نام لیتے ہیں، اور اُسے بےفائدہ لیتے ہیں۔

۶۳ پَس، کلِیسیا اپنے گُناہوں سے توبہ کرے، اور مَیں، خُداوند اُنھیں اپنا لُوں گا؛ ورنہ وہ کاٹ ڈالے جائیں گے۔

۶۴ یاد رکھو کہ وہ جو عالمِ بالا سے آتا ہے مُقَدَّس ہے، اور عاقبت اندیشی سے بات کی جائے، اور رُوح کی تاثِیر سے؛ اور اِس میں کوئی سزا نہیں، اور تُم رُوح دُعا کے وسیلے سے پاتے ہو؛ پَس، اِس کے بغیر سزا ٹھہرتی ہے۔

۶۵ میرے خادِم، جوزف سمِتھ جُونیئر، اور سِڈنی رِگڈن، اپنے لیے گھر تلاش کریں، جَیسا دُعا کے وسِیلے سے رُوح اُنھیں سِکھائے۔

۶۶ اِن باتوں پر صبر سے غالِب آتے رہو، تاکہ اَیسے زیادہ سے زیادہ اور بھاری اَبَدی جلال پائیں، ورنہ بُہت بڑی سزا۔ آمین۔