صحائف
ایلما ۴۸


باب ۴۸

عیمالیقیہ بنی لامن کو بنی نِیفی کے خِلاف اُکساتا ہے—مرونی اپنی اُمّت کو مسِیحیوں کی جدوجہد کے دِفاع کے لِیے تیار کرتا ہے—وہ آزادی اور حُرِیّت سے شادمان ہوتا ہے اور زورآور مردِ خُدا ہے۔ قریباً ۷۲ ق۔م۔

۱ اور اب اَیسا ہُوا کہ، جُوں ہی عیمالیقیہ سلطنت پر قابض ہُوا تھا، اُس نے بنی لامن کے دِل بنی نِیفی کے خِلاف بھڑکانا شُروع کِیے؛ ہاں، اُس نے بنی لامن میں سے مرد مُقرّر کِیے جو اُن کے مِیناروں پر سے بنی نِیفی کے خِلاف تقرِیریں کِیا کرتے تھے۔

۲ اور یُوں اُس نے اُن کے دِل بنی نِیفی کے خِلاف اِس حد تک بھڑکائے تھے کہ قضات کے عہدِ حُکُومت کے اُنیسویں سال کے آخِری حِصّے تک، وہ اپنی ساری چال بازیاں پُوری کر چُکا تھا، ہاں، بنی لامن پر بادِشاہ بنایا جا چُکا تھا، وہ سارے مُلک پر حُکم رانی کا خواہاں بھی تھا، ہاں، اور اُس مُلک کی سب قَوموں پر، بنی لامن کے ساتھ ساتھ بنی نِیفی پر بھی۔

۳ پس وہ اپنی سازِش میں کام یاب ہو چُکا تھا، چُوں کہ اُس نے بنی لامن کے دِل اِس قدر سنگِین اور عقل کو اَندھا کِیا، اور غضب میں اُبھارا، اِتنا شدِید کہ اُس نے کثِیرُ التعداد لشکر کو بنی نِیفی کے خِلاف جنگ کے لِیے اِکٹھا کِیا۔

۴ پَس اُس نے اپنی قَوم کی کثِیر تعداد کی بدولت بنی نِیفی کو مغلوب کرنے اور اُنھیں اسِیری مِیں لانے کا تہیہ کر لِیا تھا۔

۵ اور یُوں اُس نے بنی ضورام میں سے سِپہ سالاروں کو مُقرّر کیا، چُوں کہ وہ بنی نِیفی کی طاقت سے بہ خُوبی واقِف تھے، اور اُن کے محفُوظ مقاموں، اور شہروں کے کم زور ترین حِصّوں سے؛ پَس اُس نے اُنھیں اپنی فَوجوں کے سِپہ سالار مُقرّر کیا۔

۶ اور اَیسا ہوا کہ اُنھوں نے اپنا پڑاؤ اُٹھایا، اور بِیابان میں ضریملہ کے مُلک کی طرف بڑھے۔

۷ اب اَیسا ہوا کہ جِس دوران میں عیمالیقیہ چال بازی اور عِیّاری سے قُّوت پا رہا تھا، تو دُوسری طرف، مرونی اُمّت کے ذہنوں کو خُداوند اپنے خُدا پر توّکُل کرنے کے لِیے تیار کر رہا تھا۔

۸ ہاں وہ بنی نِیفی کی فَوجوں کو مضبُوط کرتا رہا، اور چھوٹے چھوٹے قلعے یا پناہ گاہیں تعمیر کراتا رہا؛ اپنی فَوجوں کی مورچا بندی کے لِیے خندقیں کھدواتا رہا، اور اُن کے اور اُن کے شہروں، اور اُن کے عِلاقوں کی سرحدوں کے چَوگِرد پتھروں کی فصِیلیں تعمِیر کراتا رہا؛ ہاں، سارے مُلک کے گِردا گِرد۔

۹ اور اُس نے اپنے کم زور ترین مورچوں پر آدمیوں کی بڑی تعداد کو تعُیِّنات کِیا؛ اور یُوں اُس نے اُس مُلک کو قلعہ بند اور مُستحکم کِیا جو بنی نِیفی کی ملکیت تھا۔

۱۰ اور اِس طریقے سے وہ اُن کی آزادی اُن کے عِلاقوں، اُن کی بیویوں، اور اُن کے بچّوں، اور اُن کے اَمن و اَمان کی بقا کی خاطر تیاری کر رہا تھا، تاکہ وہ خُداوند اپنے خُدا کے لِیے زِندگی بسر کریں، اور تاکہ وہ اُس جدوجہد کو قائم رکھ سکیں، جِس کو اُن کے دُشمن مسِیحیوں کا نصبُ العین کہتے تھے۔

۱۱ اور مرونی زور آور اور قوی مرد تھا؛ وہ صاحبِ اِدراک تھا؛ ہاں، اَیسا شخص جِس کو خُون ریزی پسند نہ تھی، اَیسا اِنسان جِس کی جان اپنے وطن کی آزادی و حُرِیّت سے شادمان ہوتی تھی، اور اپنے بھائیوں کو اسِیری و غُلامی سے نِکال کر؛

۱۲ ہاں، اَیسا مرد جِس کا دِل اپنے خُدا کے لِیے شُکر گُزاری سے بے حد معمُور تھا، اُن بے شُمار نعمتوں اور برکتوں کے لِیے جو خُدا نے اُس کی اُمّت کو عطا کی تھیں، اَیسا مرد جِس نے اپنی اُمّت کی خَیر خواہی اور تحفُظ کی خاطر اَن تھک مُشقّت اُٹھائی تھی۔

۱۳ ہاں، اور وہ اَیسا اِنسان تھا، جو مسیح کے اِیمان میں اَٹل تھا، اور وہ قَسم اُٹھا کر اپنی اُمّت، اپنے حقُوق، اپنے مُلک، اور اپنے مذہب کا، حتیٰ کہ خُون تک دے کر دِفاع کرنے کا عہد کر چُکا تھا۔

۱۴ اب بنی نِیفی کو اُن کے دُشمنوں کے خِلاف اپنے دِفاع کی تربِیّت دی گئی تھی، یعنی ضرُورت پڑنے پر خُون ریزی کی بھی؛ ہاں، اور اُنھیں خبردار کِیا گیا تھا کہ کبھی کسی سے زیادتی نہ کریں، ہاں، اپنے دُشمنوں کے خِلاف اور اپنی زِندگی کے تحفُظ کے سِوا کسی پر تلوار نہ اُٹھائیں۔

۱۵ اور یہ اُن کا اِیمان تھا، کہ اَیسا کرنے سے خُدا اُنھیں مُلک میں خُوش حال کرے گا، یعنی دُوسرے لفظوں میں اگر وہ اِیمان داری سے خُدا کے حُکموں کو مانیں گے تو وہ اُنھیں مُلک میں خُوش حال کرے گا؛ ہاں، خطرے کو بھانپ کر، بھاگ جانے، یا جنگ کی تیاری کرنے کے لِیے، اُنھیں خبردار کرے گا؛

۱۶ اور یہ بھی، کہ خُدا اُن پر ظاہر کرے گا کہ اُنھیں اپنے دُشمنوں سے بچنے کے لِیے کہاں جانا ہے، اور اَیسا کرنے سے، خُداوند اُن کو بچائے گا؛ اور یہ مرونی کا اِیمان تھا، اور اُس کا دِل اِس بات سے شادمان ہوتا تھا؛ خُون ریزی میں نہیں بلکہ نیکوکاری میں، اپنے لوگوں کے تحفُظ میں، ہاں، خُدا کے حُکموں پر چلنے میں، ہاں، بدی سے باز رہنے میں۔

۱۷ ہاں، میں تُم سے سچّ سچّ کہتا ہُوں، اگر سارے اِنسان جو تھے، جو ہیں، اور جو ہوں گے، مرونی کی مانِند ہوتے، تو دیکھو، دوزخ کی یہی طاقتیں ہمیشہ کے لِیے دہل جاتیں؛ ہاں، بنی آدم کے دِلوں پر اِبلِیس کبھی غلبہ نہ پا سکتا۔

۱۸ دیکھو، وہ مضایاہ کے بیٹے، عمون جَیسا مرد تھا، ہاں، حتیٰ کہ مضایاہ کے دُوسرے بیٹوں جَیسا، ہاں، اور ایلما اور اُس کے بیٹوں جَیسا، پَس وہ سب مردِ خُدا تھے۔

۱۹ اب دیکھو، ہیلیمن اور اُس کے بھائی قَوم کے لِیے مرونی کی نسبت کوئی کم کارآمد نہ تھے؛ پَس اُنھوں نے خُدا کے کلام کی مُنادی کی تھی، اور اُنھوں نے اُن سب افراد کو تَوبہ کے لِیے بپتِسما دِیا، جِنھوں نے اُن کی باتوں پر کان لگایا تھا۔

۲۰ اور یُوں وہ آگے بڑھے، اور لوگوں نے اُن کے کلام کے باعث اپنے تئِیں اِس قدر فروتن کِیا، کہ وہ خُداوند کے زبردست منظورِ نظر ہُوئے، اور یُوں وہ اپنے بِیچ میں جنگوں اور جھگڑوں سے، ہاں، حتیٰ کہ چار برس تک محفُوظ رہے۔

۲۱ اَلبتہ، جَیسا مَیں نے کہا تھا، اُنیسویں برس کے آخِری حِصّہ میں، ہاں، باوجود اِس کے کہ اُن کے اپنے ہاں اَمن و اَمان تھا، اُنھیں اپنے بھائیوں، بنی لامن، کے ساتھ بادِل ِنخواستہ لڑنا پڑا۔

۲۲ ہاں، مختصراً یہ کہ، اُن کی بڑی بے زاری کے باوجود بنی لامن کے ساتھ اُن کی جنگیں کئی برسوں تک ختم نہ ہُوئیں۔

۲۳ اب بنی لامن کے خِلاف ہتھیار اُٹھانے پر اُنھیں افسوس تھا کیوں کہ وہ خُون ریزی پر خُوش نہ ہوتے تھے؛ ہاں، اور یہی سب کُچھ نہیں، اُنھیں یہ بھی افسوس تھا کہ اپنے بے شُمار بھائیوں کو اِس دُنیا سے اَبَدی دُنیا میں بِنا تیاری کے اپنے خُدا سے مُلاقات کے لِیے بھیجنے میں وہ وسِیلہ بنے ہیں۔

۲۴ تو بھی، وہ نہ چاہتے تھے کہ اُن کی زِندگیاں یُوں ہی ختم ہو جائیں، تاکہ اُن کی بیویوں اور اُن کے بچّوں کا وحشیانہ بےرحمی سے وہ قتلِ عام کریں جو کبھی اُن کے بھائی تھے، اور اُن کی کلِیسیا سے برگشتہ ہو چُکے تھے، اور اُن سے جُدا ہو چُکے تھے اور اُنھیں نیست و نابُود کرنے کی غرض سے بنی لامن سے گٹھ جوڑ کر چُکے تھے۔

۲۵ ہاں وہ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ اُن کے بھائی بنی نِیفی کے خُون پر جشن منائیں، لہٰذا جب تک کوئی ایک بھی خُدا کے حُکموں کو ماننے والا تھا، پَس خُداوند کا وعدہ یہ تھا، کہ اگر وہ اُس کے حُکموں کو مانیں گے تو وہ مُلک میں خُوش حال ہوں گے۔