اب وقت ہے
    Footnotes

    اب وقت ہے

    اگر آپ اپنی زندگی میں کسی بات کی فکر کرنا چاہتے ہیں، تو اب وقت ہے۔

    کئی برس پہلے، جب میں کاروباری سفر کی تیاری کر رہا تھا، تو اچانک میرے سینے میں درد ہُوا۔ اسی تشویش کے باعث میری اہلیہ نے میرے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابھی سفر کا پہلا مرحلہ طے کیا تھا، کہ درد اتنی شدت اِختیار کر گیا کہ میرا سانس لینا مُشکل ہو گیا۔ جہاز سے اُترتے ہی ہم اَئر پورٹ سے سیدھے قریبی مقامی ہسپتال گئے، وہاں کئی طبی معائنوں کے بعد ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہُوئے کہا کہ ہم اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔

    ہم اَئرپورٹ پر واپس پہنچے اور اَگلی منزل کے لیے جہاز پر سوار ہو گئے۔ جب ہم نیچے اُتر رہے تھے، کپتان نے انٹر کام پر رابطہ کر کے میری معلومات حاصل کیں۔ جہاز کا عملے میں سے ایک میرے پاس آیا، کہا اُنھیں ہنگامی فون کال آئی ہے، اور مجھے بتایا کہ اَئرپورٹ پر ایمبولینس مجھے ہسپتال لے جانے کے لیے میرا اِنتظار کر رہی ہے۔

    ہم ایمبولینس میں سوار ہو کر مقامی ایمر جنسی روم میں گئے۔ وہاں دو پریشان ڈاکٹروں واضح کیا کہ آپ کے تشخیص میں غلطی ہو گئی اور اصل میں آپ پھیپھڑوں کی شریان میں خون کا لوتھڑا ہے، جس کے لیے فوری طبی علاج کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹرز نے اِطلاع دی کہ بہت سارے مریض ایسی حالت میں نہیں بچتے۔ یہ جانتے ہُوئے کہ ہم گھر سے بہت دُور ہیں اور اچانک اِس صدمے کے لیے تیار بھی نہیں تھے، ڈاکٹرز نے کہا زندگی میں اگر کوئی ایسی چیز جس کے بارے کچھ فکر کرنا ہے ، تو اب وقت تھا۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اِس پریشانی کی گھڑی میں کیسے فوری طور پر میرا پورا نقطہ نظر بدل گیا۔ جو چند لمحے پہلے اِنتہائی اہم لگتا تھا اب اُس میں کوئی دل چسپی نہ رہی تھی۔ میرا ذہن اِس زندگی کی آسائشوں اور فکروں سے نکل کر ابّدی منظر نامے کی طرف چلا گیا—اپنی اَہلیہ، بچّوں، خاندان کے بارے میں خیالات، اور سب سے بڑھ کر اپنی زندگی کا تجزریہ۔

    ہم اِنفرادی اور خاندانی طور پر کیسے زندگی بسر کر رہے تھے؟ کیا ہم اپنے عہود اور خُدا کی توقعات کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہے تھے، یا شاید اَنجانے میں دُنیا کی فکروں میں کھو کر اُن باتوں کو بھول گئے جو سب سے زیادہ اہم تھیں؟

    میں آپ کو دعوت دیتا ہُوں کہ اِس واقع سے اِنتہائی اہم سبق سیکھیں: دُنیا کی فکروں کو پیچھے چھوڑ کر اپنی زندگی کا احتساب کریں۔ یا ڈاکٹروں کی زبان میں، اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسی بات جس پر توجہ دینی ہے، تو اب وقت ہے۔

    اپنی اپنی زندگی کا احتساب

    ہم معلومات کی دُنیا میں رہتے ہیں، افراتفری سے بھر پور اِس زندگی میں بڑھتے ہُوئے فکری اِنتشار کی وجہ سے ابّدی باتوں پر غور کرنا اور مُشکل ہو جاتا ہے۔ ہماری روز مرہ کی زندگی پر تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے غور طلب بڑی بڑی خبروں کی گولہ باری کی جاتی ہے۔

    اگر ہم غور و فکر کے لیے وقت نہیں نکالتے، تو ہمیں شاید احساس نہ ہو کہ یہ تیز رفتار ماحول ہماری روز مرہ کی زندگیوں اور ہمارے فیصلوں پر اثر پذیر ہے۔ ہم شاید اندازہ کر سکیں کہ ہماری زندگیاں میمز، ویڈیوز، اور رنگ بہ رنگی خبروں پر مُشتمل معلومات کے فشار میں گھِر چُکی ہیں۔ اگرچہ یہ دل چسپ اور تفریحی ہیں لیکن ہماری ابّدی ترقی سے اِن کا کوئی واسطہ نہیں، پھر بھی وہ ہمارے فانی نظریۂ حیات کو ڈھالتی ہیں۔

    یہ دُنیاوی افراتفری کو اُن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو لحی کے خواب میں تھے۔ جب ہم عہد کے راستے پر اپنے ہاتھوں سے لوہے کی باڑ کو مضبوطی سے تھامے آگے بڑھتے ہیں۔ ہم اُن کو دیکھتے اور سُنتے ہیں جو اُس کُشادہ اور وسیع عمارت سے ہم پر ”اُنگلی اُٹھاتے اور تمسخر اُڑاتے ہیں“ (‏۱ نیفی ۸:‏۲۷)۔ شاید ہم شعوری طور پر ایسا نہ کرنا چاہتے ہوں، مگر بعض اوقات ہم ٹھہرتے ہیں اور نظریں گُھما کر دیکھتے ہیں کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے۔ ہم میں سے بعض شاید لوہے کی باڑ کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ ذرا قریب سے نظارہ کر سکیں۔ بعض شاید بالکل راستہ بھٹک جائیں ”اُن کے سبب جو اُن کی تضحیک کر رہے تھے“ (‏۱ نیفی ۸:‏۲۸

    نجات دہندہ نے ہمیں تنبیہ کی ”خبردار … کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے دِل … اِس زندگی کی فکروں سے سُست ہو جائیں“ (لوقا ۲۱:‏۳۴)۔ جدید مُکاشفہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ بُلائے ہُوئے تو بہت ہیں مگر برگُزیدہ تھوڑے ہیں۔ وہ برگُزیدہ نہیں ہیں ”کیوں کہ اُن کے دل … اِس دُنیا کی چیزوں پر لگے ہیں، اور وہ آدمیوں کی تعظیم چاہتے ہیں“ (عقائد اور عہود ۱۲۱:‏۳۵؛ مزید دیکھیے آیت ۳۴)۔ خود احتسابی کا عمل ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ دُنیا سے نکل کر، غور کریں کہ ہم عہد کے راستے پر کہاں کھڑے ہیں، اور ضرورت ہو، اِصلاح کر کے اپنی گرفت مضبوط اور نظر بُلند رکھنے کا عزم کرو۔

    حال ہی میں دُنیا بھر کے نوجوانوں سے اپنے خطاب میں صدر رسل ایم نیلسن نے نوجوانوں کو دعوت دی کہ دُنیا سے باہر نکل کر، سماجی رابطے منقطع کرتے ہُوئے سات دِن کا روزہ رکھیں۔ اور ابھی کل شام کو اُس نے بہنوں کو خواتین کی مجلس کی نِشست کے دوران میں اسی طرح کی دعوت ددی ہے۔ اُس نے پھر نوجوانوں سے کہا کہ اِس بات پر غور کرنا کہ آپ نے کیسا محسوس کرتے ہیں، کیا سوچتے ہیں، یا اُن کی سوچ کیسی تھی۔ پھر اُس نے اُن کو دعوت دی کہ ”خُداوند کے ساتھ اپنی زندگی کا مکمل احتساب کریں …اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے قدم عہد کے راستے پر مضبوطی سے جمے رہیں۔“ اُس نے حوصلہ بڑھایا کہ اگر زندگی میں چیزوں کو بدلنے کی ضرورت ہے، ”آج تبدیلی کا بہترین موقع ہے۔“۱

    اُن چیزوں پر نظر ثانی کرنا جنھیں بدلنے کی ضرورت ہے، ہم اپنے آپ سے عملی سوال کر سکتے ہیں: ہم اِس دُنیا کی بدحواسیوں سے کیسے اُوپر اُٹھ سکتے ہیں اور اپنی توجہ ابّدی منزل پر رکھ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے؟

    ۲۰۰۷ کی مجلسِ عامہ میں ”اچھا بہتر، بہترین، کے عنوان سے صدر ڈیلن ایچ اوکس نے وعظ کرتے ہُوے سکھایا کہ کیسے ہم اپنی دُنیاوی ضروریات کو ترجیحی بُنیادوں پر منظم کر سکتے ہیں۔ اُنھوں نے نصیحت فرمائی، ”ہمیں کئی اچھی چیزوں کو بہتر یا بہتریں کی خاطر ترک کرنا ہوگا کیوں کہ یہ یِسُوع مِسیح پر اِیمان کو تقویت بخشتی ہیں اور ہمارے خاندانوں کو مُستحکم کرتی ہیں۔“۲

    میں آپ کو مشورہ دینا چاہتا ہُوں کہ بہترین چیزیں یِسُوع مِسیح پر مرکوز ہیں اور ابّدی سچّائیوں کی تفہیم کہ وہ کون ہے اور ہمارا اُس سے کیا رشتہ ہے۔

    سچّائی کے مُشتاق رہو

    جب ہم نجات دہندہ کو جاننے کے مُشتاق ہوتے ہیں، تو ہم کون ہیں اور ہم یہاں کیوں ہیں سے جُڑی بُنیادی سچّائیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ امیولک ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ”یہ زندگی … خُدا سے مُلاقات کی تیاری کا وقت ہے،“یہ وقت ”ہمیں ابّدی تیاری کے لیے عطا کیا گیا ہے“ (ایلما ۳۴:۳۲–۳۳)۔ جیسا کہ یہ مشہور قول ہمیں یاد دِلاتا ہے، ”ہم اِنسان نہیں جو روحانی تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ ہم روحانی ہیں جو اِنسانی تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔“۳

    اپنے اِلہٰی سرچشمے کو پہچاننا ہماری ابّدی نشو و نما کے لیے بہت ضروری ہے اور یہ ہمیں اِس دُنیا کی بدحواسیوں سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ نجات دہندہ نے سیکھایا:

    ”اگر تم میرے میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے؛

    ”اور سچّائی سے واقف ہو گے اور سچّائی تمھیں آزاد کرے گی“ (یوحنا ۸:‏۳۱–۳۲

    صدر جوزف ایف سمتھ نے اعلان کیا تھا، ”اِس دُنیا میں اِنسان کی سب سے بڑی کامیابی و کامرانی یہ ہے کہ وہ اِلہٰی سچائیوں کا علم پائے، اِتنا جامع اور اِتنا کامل کہ دُنیا کی کوئی مُخلوق اپنے رعب یا دب دبے سے اُنھیں اِس حقیقت کو جُھٹلانے سے روک نہ سکے جو اُنھوں نے پائی ہے۔“۴

    آج کی دُنیا میں، سچّائی پر بحث زور شور پر ہے، ہر طرف سے ایسے دعویٰ کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی اضافی شے ہو جس کی تعبیر ہر شخص اپنی مرضی سے کر سکتا ہو۔ نوجوان لڑکے جوزف سمتھ نے جان لیا تھا کہ اُس کے دوَر میں ”تذب ذب اور تنازع اِس قدر شدید تھا کسی … حتمی نتیجے پر پہنچنا ناممکن تھا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا تھا۔“ (جوزف سمتھ—تاریخ ۱:‏۸)۔ ”لفظوں کی اِس جنگ اور نظریات کے ہنگامے میں“ اُس نے سچّائی کی تلاش کرتے ہُوئے اَلہٰی ہدایت پائی (جوزف سمتھ—تاریخ ۱:‏۱۰

    اپریل کی مجلسِ عامہ میں، صدر نیلسن نے سکھایا، ”سچ پر حملہ آور ہزارہا صداؤں اور اِنسانوں کے فلسفّوں کی چھان پھٹک کرنے کی ذرا سی آرزو اگر ہمارے اندر ہے تو ہمیں لازماً مکاشفہ پانا سیکھنا ہے۔“۵ ہمیں سچّائی کے رُوح پر توکل کرنا سیکھنا ہوگا، جس کو ”دُنیا حاصل نہیں کر سکتی، کیوں کہ وہ اُسے دیکھتی نہیں، نہ اُسے جانتی ہے“ (یوحنا ۱۴:‏۱۷

    جیسے جیسے دُنیا تیزی سے مُتبادل حقیقتوں کی جانب بڑھ رہی ہے، ہمیں یعقوب کے اُن اَلفاظ کو یاد رکھنا ہے کہ ”رُوح سچ بولتا ہے اور جھوٹ نہیں کہتا۔ پس، یہ باتوں کی بابت کہتا ہے جیسے وہ حقیقت میں ہیں اور باتوں کی بابت جیسے وہ حقیقت میں ہوں گی؛ پس، ہماری جانوں کی نجات کے لیے یہ باتیں واضح طور پر ظاہر کی گئی ہیں“ (یعقوب ۴:‏۱۳

    جب ہم دُنیا سے باہر نکل کر اپنی زندگیوں کا احتساب کریں، تو سوچنے کا اب وقت ہے کہ کون سی تبدیلیاں کرنی ہیں۔ ہمیں یہ جان کر بڑی اُمید ہو سکتی ہے کہ ہمارے لاثانی یِسُوع مِسیح نے ایک بار پھر راستہ دِکھایا ہے۔ اُس کی موت اور جی اُٹھنے سے پہلے، جب وہ اپنے اِلہٰی کردار کو سمجھانے کے لیے اپنے لوگوں کی مدد کر رہا تھا، اُس نے اُنھیں یاد دِلا ”کہ تم مجھ میں اِطمینان پاؤ۔ دُنیا میں مُصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو، میں دُنیا پر غالِب آیا ہُوں“ (یوحنا ۱۶:۳۳‏)۔ میں اِن سچائیوں کی یِسُوع مِسیح کے نام پر گواہی دیتاہوں، آمین۔