باب ۲۳
یِسُوع یسعیاہ کے کلام کی تصدِیق کرتا ہے—وہ لوگوں کو نبیوں کے کلام پر فکر و تحقِیق کا حُکم دیتا ہے—قیامت کی بابت سموئیل لامنی کا کلام اُن کے صحیفوں میں شامِل کِیا جاتا ہے۔ قریباً ۳۴ سالِ خُداوند۔
۱ اور اب، دیکھو، مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ تُمھیں اِن باتوں پر فکر و تحقیق کرنا چاہیے، ہاں، مَیں تُمھیں حُکم دیتا ہُوں کہ تُم اِس کلام پر مُستَعِدی سے غَور و فکر کرو؛ پَس یسعیاہ کا کلام بڑا افضل ہے۔
۲ پَس یقِیناً اُس نے میری اُمّت کی بابت ساری باتوں کا ذِکر کِیا ہے جو کہ اِسرائیلؔ کے گھرانے کے ہیں؛ لہٰذا یہ لازِم ہے کہ وہ غیر قَوموں سے بھی کلام کرے۔
۳ اور سب باتیں جو اُس نے کہیں، اُس کے کلام کے مُطابق ہو چُکی ہیں اور ہوں گی۔
۴ پَس میرے کلام پر دھیان دو؛ وہ باتیں لِکھ لو جو مَیں نے تُمھیں بتائی ہیں؛ اور وہ مُقرّرہ وقت اور باپ کی مرضی کے مُطابق غیر قَوموں پر ظاہر ہوں گی۔
۵ اور جو کوئی میرے کلام کو سُنتا اور تَوبہ کرتا اور بپتِسما لیتا ہے، وہی نجات پائے گا۔ اور نبیوں کے کلام پر فکر و تحقِیق کرو پَس بُہتیرے ہیں، جو اِن باتوں کی گواہی دیتے ہیں۔
۶ اور اب اَیسا ہُوا کہ جب یِسُوع یہ باتیں کہہ چُکا تو اُس نے اُن سے دوبارہ کہا، اُن سارے صحائف کو صراحت سے بیان کرنے کے بعد جو اُنھوں نے پائے تھے، اُس نے اُن سے کہا: دیکھو، مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم دُوسرے صحائف کو لِکھو، جو کہ تُمھارے پاس نہیں ہیں۔
۷ اور اَیسا ہُوا کہ اُس نے نِیفی سے کہا: جو نوِشتہ تُو نے قلم بند کِیا ہے اُسے یہاں لاؤ۔
۸ اور جب نِیفی وہ نوِشتہ لایا اور اُس کے سامنے رکھا، اور اُس نے اُن پر نظر ڈالی اور کہا:
۹ مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں، کہ مَیں نے اپنے خادِم سموئیل لامنی کو حُکم دِیا تھا، کہ وہ اِس اُمّت کو گواہی دے، کہ اُس روز جب میرے وسِیلہ سے باپ کا اپنا نام جلال پائے گا، بُہتیرے مُقدّسین ہوں گے جو مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے، اور بُہتوں پر ظاہر ہوں گے، اور اُن کی خِدمت گُزاری کریں گے۔ اور اُس نے اُن سے کہا: کیا اَیسا نہ ہُوا تھا؟
۱۰ اور اُس کے شاگِردوں نے اُسے جواب دِیا اور کہا: ہاں، خُداوند، سموئیل نے تیرے کلام کے مطُابق نبُّوت کی تھی، اور وہ سب باتیں پُوری ہُوئی تھیں۔
۱۱ اور یِسُوع نے اُن سے کہا: پِھر تُم نے کیوں یہ بات نہ لِکھی کہ بُہتیرے مُقدّسین جی اُٹھے اور بُہتوں پر ظاہر ہُوئے اور اُن کی خِدمت گُزاری کی تھی؟
۱۲ اور اَیسا ہُوا کہ نِیفی کو یاد آیا کہ اِس بات کو رقم نہیں کِیا گیا تھا۔
۱۳ اور اَیسا ہُوا کہ یِسُوع نے حُکم دِیا کہ اِس کو لِکھا جائے؛ پَس جِس طرح اُس نے حُکم دِیا اُس کو اُسی طرح لِکھا گیا۔
۱۴ اور اب اَیسا ہُوا کہ جب یِسُوع سارے صحائف کو صراحت کے ساتھ، جو اُنھوں نے لِکھے تھے، ایک ساتھ بیان کر چُکا، تو اُس نے اُنھیں حُکم دِیا کہ وہ اُن باتوں کی تعلِیم دیں جو اُس نے اُن سے صراحت کے ساتھ بیان کی تھیں۔