صحائف
مُوسیٰ ۳


باب ۳

(جُون–اَکتوبر ۱۸۳۰)

خُدا نے تمام چِیزوں کو اُن کی رُوحانی حالت میں خلق کِیا اِس سے پہلے کہ وہ طبعی حالت میں زمِین پر ہوتیں—اُس نے آدمی کو خلق کِیا، زمِین پر پہلا بشر—عَورت، آدمی کے لیے مددگار ہے۔

۱ یُوں آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کی تکمیل ہُوئی۔

۲ اور ساتویں دِن مُجھ خُدا نے اپنا کام اور ہر شَے جو مَیں نے بنائی تھی مکمل ہُوئی؛ اور مَیں ساتویں دِن اپنے سارے کاموں سے فارغ ہُوا؛ اور ساری چِیزیں جو مَیں نے بنائی تھیں تکمیل کو پہنچیں اور مُجھ خُدا نے دیکھا کہ وہ اچّھی تھیں؛

۳ اور مُجھ خُدا، نے ساتویں دِن کو برکت دی اور اُسے پاک ٹھہرایا؛ کیوں کہ اُس میں مُجھ خُدا نے جو خلق کِیا اور بنایا تھا مَیں اپنے سارے کام سے فارغ ہُوا۔

۴ اور اب دیکھ، مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، یہ آسمان کی اور زمِین کی نسلیں ہیں جب اُنھیں خلق کِیا گیا، جِس دِن مُجھ خُداوند خُدا نے آسمان اور زمِین کو بنایا،

۵ اور اِس سے پہلے کہ دُنیا کا ہر پودا اِس زمِین پر تھا، اور دھرتی کی ہر سبزی اِس سے پہلے کہ نمو پاتی۔ پَس مُجھ خُداوند خُدا نے تمام چِیزوں کو جِن کی بابت مَیں نے فرمایا ہے رُوحانی حالت میں خلق کِیا اِس سے پہلے کہ وہ طبعی حالت میں رُویِ زمِین پر تھیں۔ پَس مُجھ خُداوند خُدا نے رُویِ زمِین پر بارِش نہ برسائی تھی۔ اور مُجھ خُداوند خُدا نے کُل بنی آدم کو پَیدا کِیا تھا؛ اور ابھی تک کسی اِنسان کو نہیں کہ زمِین پر کھیتی باڑی کرے؛ پَس آسمان پر مَیں نے اُن کو خلق کِیا؛ اور نہ زمِین پر اور نہ پانی میں اور نہ ہَوا میں کوئی بشر تھا؛

۶ بلکہ مُجھ خُداوند خُدا نے حُکم دیا، اور زمِین پر سے کُہر اُٹھی، اور ساری زمِین کو سیراب کِیا۔

۷ اور مُجھ خُداوند خُدا نے اِنسان کو زمِین کی مٹی سے بنایا، اور اُس کے نتھنوں میں زِندگی کا دم پُھونکا؛ اور اِنسان جِیتی جان ہُوا؛ زمِین پر پہلا بشر اور پہلا انسان بھی؛ البتہ ساری چِیزیں پہلے خلق کی گئیں؛ بلکہ وہ میرے فرمان کے مُطابق رُوحانی حالت میں خلق کی گئیں۔

۸ اور مُجھ خُداوند خُدا نے مشرِق کی طرف عدن میں باغ لگایا، اور وہاں مَیں نے اُس آدمی کو رکھا جِسے مَیں نے بنایا تھا۔

۹ اور زمِین میں سے مُجھ خُداوند خُدا نے ہر درخت کو اُگایا، جو یقیناً اِنسان کے دیکھنے میں دِل کش ہے اور اِنسان اُسے دیکھ سکتا تھا۔ اور یہ بھی جِیتی جان ہُوا۔ کیوں کہ اُس دِن جب مَیں نے اُسے خلق کِیا روحانی تھا؛ کیوں کہ یہ اُس آسمانی کُرہ میں مقیم ہے جِس میں مُجھ خُدا نے اُسے خلق کِیا، ہاں تمام چِیزیں جو مَیں نے اِنسان کے اِستعمال کے لیے تیار کی ہیں؛ اور اِنسان نے دیکھا کہ یہ کھانے کے لیے اچّھا تھا۔ اور مُجھ، خُداوند، خُدا نے، باغ کے بِیچ میں زِندگی کا درخت بھی لگایا، اور نیک اور بد کی پہچان کا درخت بھی۔

۱۰ اور مَیں، خُداوند خُدا، نے عدن سے ایک دریا نِکالا کہ باغ کو سیراب کرے؛ اور وہاں سے وہ تقسیم ہُوا اور چار ندیوں میں بٹ گیا۔

۱۱ اور مُجھ، خُداوند خُدا، نے پہلے کا نام فِیسون رکھا، اور یہ حوِیلہ کی ساری زمِین کو گھیرے ہُوئے ہے، جہاں مُجھ خُداوند خُدا نے بُہت سا سونا خلق کِیا؛

۱۲ اور اُس سرزمِین کا سونا اچّھا تھا، اور وہاں موتی اور سنگِ سُلیمانی تھا۔

۱۳ اور دُوسری ندی کا نام جِیحون رکھا گیا؛ وہی جو کُوش کی ساری سرزمِین کو گھیرے ہُوئے ہے۔

۱۴ اور تِیسری ندی کا نام دجلہ تھا؛ جو اسُور کے مشرِق کی طرف جاتا ہے۔ اور چَوتھی ندی کا نام فرات تھا۔

۱۵ اور مُجھ، خُداوند خُدا، نے آدمی کو لِیا اور اُسے باغِ عدن میں رکھا کہ اُس کی باغ بانی اور اُس کی نگہبانی کرے۔

۱۶ اور مجھ، خُداوند خُدا، نے آدمی کو یہ کہہ کر حُکم دیا: باغ کے ہر درخت سے تُو بےروک ٹوک کھا سکتا ہے،

۱۷ البتہ نیک اور بد کی پہچان کے درخت سے، تُو اُس سے نہ کھانا، بلکہ تُو اپنے لیے خُود فیصلہ کرنا پَس اَیسا کرنے کا اِختیار تُجھے دیا گیا ہے؛ لیکن یاد رکھ کہ مَیں نے یہ منع کِیا ہے، پَس جِس دِن تُو نے اُس میں سے کھایا تُو ضرور مرے گا۔

۱۸ اور مجھ، خُداوند خُدا، نے اپنے اِکلوتے سے کہا، کہ آدمی کا اکیلا رہنا اچّھا نہیں؛ اِس لیے مَیں اُس کے لیے ایک مددگار بناؤں گا۔

۱۹ اور مُجھ خُداوند خُدا نے کُل دشتی جانوروں اور ہَوا کے کُل پرندے مٹی سے بنائے، اور اُنھیں حُکم دیا کہ وہ آدم کے پاس آئیں، کہ دیکھیں کہ وہ اُنھیں کیا نام دیتا ہے؛ اور وہ بھی جِیتی جانیں تھیں؛ پَس مُجھ خُدا نے اُن میں زِندگی کا سانس پُھونکا، اور حُکم دیا کہ آدم نے جِس جانور کو جو کہا وہ ہی اُس کا نام ہوگا۔

۲۰ اور آدم نے کُل چوپایوں اور ہَوا کے پرندوں اور کُل دشتی جانوروں کے نام رکھے، لیکن آدم کے لیے کوئی مددگار نہ ملا۔

۲۱ اور مُجھ خُداوند خُدا نے آدم پر گہری نِیند بھیجی؛ اور وہ سو گیا، اور مَیں نے اُس کی پسلِیوں میں سے ایک نِکالی اور اُس کی جگہ گوشت بھر دیا؛

۲۲ اور اُس پسلی سے جو مُجھ خُداوند خُدا نے آدمی میں سے نِکالی تھی مَیں نے عَورت بنائی، اور اُسے آدمی کے پاس لایا

۲۳ اور آدم نے کہا: مَیں اب یہ جانتا ہُوں کہ یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی، اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے؛ وہ ناری کہلائے گی، کیوں کہ وہ نر سے نِکالی گئی۔

۲۴ اِس واسطے مرد اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑے گا، اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا؛ اور وہ ایک تن ہوں گے۔

۲۵ اور آدم اور اُس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور وہ شرماتے نہ تھے۔