۲۰۱۹
فطری انداز سے گواہی کا اشتراک کیسے کرنا ہے
مارچ ۲۰۱۹


خدمت گزاری کے اصول، مارچ ۲۰۱۹

فطری انداز سے گواہی کا اشتراک کیسے کرنا ہے

خدمت گزاری گواہی دینا ہی ہے۔ خدمت گزاری کی لچک رسمی اور غیر رسمی طریقوں سے ہمارے گواہی دینے کے مواقعوں کو بڑھا سکتی ہے۔

ہم ”ہر وقت ہر بات میں اور ہر جگہ خدا کے گواہ بنے رہنا چاہتے ہیں“ (مضایاہ ۱۸:۹)۔ اپنی گواہیوں کا اشتراک ایک گواہ کے طورپر کھڑے ہونے کا حصہ ہے اور رُوحُ الُقدس کو دعوت دینے کے لئے کسی کے دل کو چھونے اور اُن کی زندگی کو بدلنے کا ایک طاقتور طریقہ ہے۔

”گواہی—حقیقی گواہی، جو رُوح سے جنم لیتی اور رُوحُ الُقدس کے باعث جس کی تصدیق ہوتی ہے—زندگیوں کو بدلتی ہے،“یہ بات صدر ایم رسل بیلرڈ نے کہی، جو بارہ رسولوں کی جماعت کے قائم مقام صدر ہیں۔۱

مگر اپنی گواہی کا اشتراک کرنا ہم میں سے چند ایک کے لئے خوف ناک اور غیر اطمینان بخش ہو سکتاہے۔ ایسا ہماری سوچ کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ گواہی کا اشتراک مخص روزے اور گواہی کی عبادت یا سبق پڑھا نے کے دوران ہونا چاہیے۔ اُن رسمی اطراف میں ہم خاص الفاظ اور فقرے استعمال کرتے ہیں جو فطری گفتگو کا حصہ نہیں ہوتے۔

اپنی گواہیوں کا اشتراک ہماری اور دوسروں کی زندگیوں میں ایک مزید باقاعدہ برکت ہو سکتی ہےجب ہم جانیں گے کہ جن چیزوں پر ہم روزمرہ زندگی کی ترتیب میں ایمان رکھتے ہیں اُن کا اشتراک کتنی سادگی سے کیا جا سکتاہے۔ شروعات میں مدد کے لئے یہاں پر چند تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

اِسے سادہ رکھیں

ایک گواہی کے آغاز کے لئے کسی اندازِ کلام کی ضرورت نہیں ہوتی، ”میں اپنی گواہی دینا چاہوں گا،“ اور نہ ہی اِسے ”یِسُوع مِسیح کے نام میں، آمین“ کہہ کر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ گواہی ہمارے ایمان کا اظہار ہے اور جو ہم جانتے ہیں کہ سچ ہے۔ پس اپنی پڑوسن کے ساتھ کسی ایسے مسئلے پر گلی میں بات کرنا کہ جس کا وہ سامنا کر رہی ہے اور یہ کہنا، ”میں جانتی ہوں خدا ہماری دعاؤں کا جواب دیتاہے،“ کسی بھی ایسی گواہی کی طرح طاقت ور ہو سکتاہے جو چرچ کے منبر سے دی جاتی ہے۔ طاقت کسی مرصع عبارت سے نہیں آتی؛ بلکہ یہ رُوحُ الُقدس کی سچائی کی تصدیق کرنے کے باعث آتی ہے (دیکھئے عقائد اور عہود ۱۰۰: ۷–۸

فطری گفتگو کے بہاؤ کے ساتھ مربوط ہوں۔

اگر ہم اشتراک کرنے کے لئے رضامند ہیں ، تو ہمارے ارد گرد بہت سارے مواقعے موجود ہیں جو روزمرہ کی گفتگو میں گواہی کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر:

  • کوئی آپ سے اختتامِ ہفتہ کے بارے میں پوچھے۔ ”یہ بہت شاندار تھا،“ آپ جواب دیتے ہیں۔ ”مجھے بس چرچ جانے کی ہی ضرورت تھی۔“

  • کچھ لوگ آپ کی زندگی میں چنوتی کے بارے میں جاننے کے بعد ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں: ”مجھے افسوس ہوا ہے۔“ آپ جواب دیتے ہیں: ”آپ کی دل چسپی کا شکریہ۔ میں جانتا ہوں کہ خُدا اِس سب میں میری معاونت کرے گا۔ وہ پہلے بھی میر ی دیکھ بھال کرتا رہا ہے۔“

  • کسی نے مشاہدہ کیا کہ: ”مجھے اُمید ہے کہ یہ خوف ناک موسم جلد بدلے گا،“ ”یقیناً بس کے آنے میں تاخیر ہے،“ یا ”ٹریفک دیکھو۔“ آپ جواب دے سکتے ہیں: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ خُدا کی مدد سے ہر کام ٹھیک ہو جائے گا۔“

اپنے تجربات کا اشتراک کریں

ہم اکثر ایک دوسرے سے اپنی چنوتیوں کے بارے بات کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص آپ کو بتاتاہے کہ وہ کن مسائل کا سامنا کر رہا ہے ، تو آپ کسی ایسے وقت کے بارے بتا سکتے ہیں جب خدا نے آزمائشوں میں آپ کی مدد کی اور گواہی دیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اُن کی مدد بھی کر سکتاہے۔ خداوند نے فرمایا ہے کہ وہ ہماری آزمائشوں میں ہمیں مضبوطی بخشتا ہے کہ ”تُم اِس کے بعد میں میرے گواہ رہو، اور تم یقیناً جان لو کہ میں، خداوند خدا، اپنے لوگوں کی مصیبتوں میں اُن کے پاس جاتا ہوں“ (مضایاہ ۲۴: ۱۴)۔ جب ہم گواہی دیتے ہیں کہ کس طرح سے اُس نے ہماری آزمائشوں میں مدد کی ہے تو ہم اُس کے گواہ ٹھہرتے ہیں۔

تیار رہیں

ہم میں سے چند ایک کے لئے، برمحل گواہی دینا خوف ناک ہو سکتاہے۔ ایسے طریقے موجود ہیں کہ جن سے ہم پہلے سے ہی منصوبہ سازی کر سکتے ہیں”جو کوئی [ہم] سے [ہماری] اُمِید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لِئے ہر وقت مُستعِد رہو“ (۱ پطرس ۳: ۱۵

اول، تیار ہونے سے مراد یہ دیکھنا ہے کہ ہم کیسے جیتے ہیں۔ کیا ہم اپنی زندگیوں میں رُوحُ الُقدس کو دعوت دے رہے ہیں اور راستبازی کی زندگی کے ذریعے ہر روز اپنی گواہیوں کو مضبوط کر رہے ہیں؟ کیا ہم رُوح کو دُعا اور صحائف کے ذریعے مواقع جاتفراہم کر رہے ہیں کہ وہ ہم سے مخاطب ہو اور ہمیں وہ الفاظ عطا کرے جن کی ہمیں ضرورت ہے؟ جیسا کہ خدا وند نے ہائریم سمتھ کو مشورت دی، ”میرے کلام کا اعلان کرنے کے خواہاں مت ہو، بلکہ پہلے میرے کلام کو حاصل کرنے کے خواہاں ہو، اور پھر تیری زبان کھل جائے گی“ (عقائد اور عہود ۱۱: ۲۱

دوم، تیار ہونے سے مراد آگے دیکھنا اور اُن مواقعوں کے بارے سوچنا ہوسکتا ہے جو آپ کو اُس دن یا اُس ہفتے میں گواہی کا اشتراک کرنے کے لئے میسر ہو سکتے ہیں۔ آپ یہ سوچتے ہوئے اُن مواقعوں کے لئے تیار ہو سکتے ہیں کہ وہ آپ کو کیسےاُن باتوں کے اشتراک کا امکان بخشتے ہیں جن پر آپ ایمان رکھتے ہیں۔

نجات دہندہ اور اُس کی تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے رہیں

صدر بیلرڈ نے سِکھایا، ”اگرچہ کلیسیا کے رکن کے طور پر ہمارے پاس بہت ساری چیزوں کے بارے میں گواہیاں ہو سکتی ہیں، مگر چند ایسی بنیادی سچائیاں ہیں جن کے بارے میں ہمیں ایک دوسرے کو مستقل طوپر تعلیم دینے کی اور اشتراک کرنے کی ضرورت ہے۔“ مثال کے طورپر، اُس نے فہرست دی: ”خدا ہمارا باپ ہے اور یِسُوع ہی مسیح ہے۔ منجی کا کفارہ نجات کے منصوبہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جوزف سمتھ نے یسوع مسیح کی ابدی انجیل کی معموری کو بحال کیا، اور مورمن کی کتاب اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری گواہی سچی ہے۔ جب ہم دل کو چھونے والی اُن سچائیوں کا اظہار کرتے ہیں ،تو ہم گواہی دینے کے لئے رُوح کو دعوت دیتے ہیں کہ جو ہم نے کہا ہے وہ سچ ہے۔ صدر بیلرڈ نے تاکید کی ہے کہ ”جب مسیح کی خالص گواہی جنم لیتی ہے تو رُوح کو روکا نہیں جا سکتا۔“۲

نجات دہندہ کی مثال

سامریہ کے سفر سے تھکاماندہ ہو کر، یسوع ایک کنوئیں پر آرام کرنے کے لئے رُکا اور وہاں ایک عورت سے ملا۔ اُس نے گفتگو کا آغاز کنوئیں سے پانی نکالنے کے بارے سے کیا۔ اِس روزمرہ کے کام کو استعمال کرتے ہوئے کہ جس میں وہ عورت مصروف تھی یسوع کو موقع مِلا کہ وہ اُسے زندگی کے پانی اور ابدی زندگی کی گواہی دے جو اُن کے لئے دستیاب ہے جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں (دیکھئے یُوحنّا ۴: ۱۳–۱۵، ۲۵–۲۶

ایک سادہ گواہی زندگیاں بدل سکتی ہے

صدر رسل ایم نیلسن نے ایک نرس کے بارے بتایاجس نے اُس وقت کے ڈاکٹر نیلسن سے ایک مشکل جراحی عمل کے بعد سوال کیا۔ ”آپ دوسرے جراحوں کی مانند کیوں نہیں ہیں؟“ کچھ جراح جن کو وہ جانتی تھی وہ بدمزاج اور گستاخ ہو جاتے تھے جب وہ ایسے بڑے دباؤ والے اعمال کو سر انجام دیتے تھے۔

ڈاکٹر نیلسن کئی طریقوں سے جواب دے سکتا تھا۔ مگر اُس نے سادگی سے جواب دیا، ”کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ مورمن کی کتاب سچی ہے۔“

اُس کے جواب نے نرس اور اُس کے شوہر کو مورمن کی کتاب کو پڑھنے کی ترغیب دی۔ بعد میں صدر نیلسن نےنرس کو بپتسمہ دیا۔ عشروں بعد، ایک نئے مقرر کردہ رسول کے طور پر جب صدر نیلسن نے ٹینسی، یو ایس اے، میں سٹیک کانفرنس کی صدارت کی، تو اُسی نرس سے مل کر وہ ایک غیر متوقع نیز ملن سے لطف اندوز ہوئے۔ اُس نے بیان کیا کہ اُس کی تبدیلی، اُن کی سادہ گواہی سے اور مورمن کی کتاب کے اثر سے رونما ہوئی، اور اُس نے مزید ۸۰ لوگوں کی تبدیل ہو نے میں راہنمائی کی۔۳

عمل کرنے کی دعوت

اپنی گواہی کا اشتراک کرنے کے لئے خوف زدہ مت ہوں۔ یہ اُن کو برکت دے سکتی ہے جن کی آپ خدمت کرتے ہیں۔ آپ آج اپنی گواہی کا اشتراک کیسے اِن یا اپنی تجاویز میں سے ایک کو استعمالکرتے ہوئے کریں گے؟

حوالہ جات

  1. ایم رسل بیلرڈ، ”Pure Testimony،“ لیحونا، نومبر ۲۰۰۴، ۴۰۔

  2. ایم رسل بیلرڈ ، ”Pure Testimony،, ۴۱،“۔

  3. جیسن سیونسن میں، ”Be Ready to Explain Your Testimony Using the Book of Mormon، صدر نیلسن بتاتے ہیں، “ Church News section of LDS.org, فروری ۶، ۲۰۱۸، news.lds.org.